خیبرپختونخوا میں پہلی مرتبہ جامعات کی صوبائی سطح پر درجہ بندی جاری
خیبرپختونخوا حکومت کے محکمۂ اعلیٰ تعلیم نے صوبے کی جامعات کی درجہ بندی (رینکنگ) کا اعلان کر دیا ہے، جسے پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا صوبائی یونیورسٹی رینکنگ نظام قرار دیا جا رہا ہے۔
اس رینکنگ کا اعلان وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی نے پشاور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر وزیر اطلاعات شفیع جان، مختلف جامعات کے وائس چانسلرز اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
مینا خان آفریدی کے مطابق رینکنگ نظام کی تیاری میں قومی اور بین الاقوامی سطح پر رائج درجہ بندی کے قابلِ عمل اشاریوں (Indicators) سے رہنمائی لی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ جامعات کا جائزہ 12 بنیادی اشاریوں اور 66 ذیلی اشاریوں کی بنیاد پر لیا گیا۔
صوبے کی 43 جامعات کو پانچ مختلف کیٹیگریز میں درجہ بند کیا گیا۔ مجموعی درجہ بندی میں انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز (آئی ایم سائنسز) پشاور پہلے نمبر پر رہا، جبکہ جامعہ ہزارہ دوسرے اور پاک آسٹریا فاخ ہوخ شُولے (Pak-Austria Fachhochschule) ہری پور تیسرے نمبر پر رہی۔
جنرل یونیورسٹیز کی کیٹیگری میں بھی آئی ایم سائنسز نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ جامعہ ہزارہ دوسرے اور جامعہ ملاکنڈ تیسرے نمبر پر رہیں۔
ٹیکنیکل تعلیم فراہم کرنے والی جامعات کی درجہ بندی میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور پہلے، خیبر میڈیکل یونیورسٹی دوسرے اور یونیورسٹی آف ایگریکلچر پشاور تیسرے نمبر پر رہی۔
2011 کے بعد قائم ہونے والی جامعات کو ’’ایمرجنگ یونیورسٹیز‘‘ کی الگ کیٹیگری میں شامل کیا گیا۔ اس درجہ بندی میں پاک آسٹریا فاخ ہوخ شُولے ہری پور پہلے، شہداء اے پی ایس یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نوشہرہ دوسرے اور جامعہ ہری پور تیسرے نمبر پر رہی۔
نجی جامعات کی درجہ بندی میں غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ (گیکی) نے پہلی، سیکاس یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ایمرجنگ سائنسز نے دوسری جبکہ قرطبہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیرہ اسماعیل خان نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
وزیر اعلیٰ تعلیم نے کہا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ صوبائی سطح پر جامعات کی درجہ بندی کا نظام متعارف کرایا گیا ہے اور آئندہ جامعات کو ان کی کارکردگی کی بنیاد پر خصوصی گرانٹس بھی دی جائیں گی۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں یہ رینکنگ ہر سال جاری کی جائے گی۔
مینا خان آفریدی نے بتایا کہ گزشتہ 13 برسوں کے دوران صوبے میں 14 نئی جامعات قائم کی جا چکی ہیں، جبکہ آئندہ بجٹ میں طلبہ کے لیے مزید سہولتوں اور مراعات کا بھی اعلان کیا جائے گا۔
