زلزلے کا منظر: "ہارر موویز جیسا منظر"
وینزویلا میں بدھ کی شام عوام سرکاری تعطیل منا رہے تھے — 1821 میں آزادی کی جنگ میں فیصلہ کن معرکے کی یاد میں — کہ اچانک زمین لرز اٹھی۔ پہلا زلزلہ 7.2 شدت کا تھا۔ لوگ سنبھل بھی نہ پائے کہ محض 39 سیکنڈ بعد 7.5 شدت کے دوسرے اور زیادہ خطرناک زلزلے نے سب کچھ تہ و بالا کر دیا۔
کراکاس کے ایک رہائشی نے، جنہوں نے 1967 کا زلزلہ بھی دیکھا تھا، بتایا کہ اس بار کا منظر اُس سے بھی بدتر تھا۔ ایک اور بچ جانے والے نے کہا: "جب میں عمارت سے نکلا تو سڑک پر جو منظر تھا، وہ ہارر موویز سے بھی زیادہ خوفناک تھا۔"
تباہی کیوں اتنی زیادہ؟
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ماہر ارضیات واشان رائٹ کے مطابق وینزویلا کیریبین اور جنوبی امریکہ کی تہہ دار پلیٹوں کے درمیان ایک "بڑے اسٹرائیک-سلپ فالٹ زون" پر واقع ہے، جس کی وجہ سے یہاں شدید زلزلے آتے ہیں۔
کراکاس تلچھٹ کے ایک گہرے حوض میں واقع ہے جو زلزلے کی لہروں کو مزید طاقتور بنا دیتا ہے — اس لیے مرکز سے سیکڑوں کلومیٹر دور ہونے کے باوجود دارالحکومت میں اتنی تباہی ہوئی۔
— واشان رائٹ، ماہر ارضیات، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان ڈیاگو
الجزیرہ کی نامہ نگار کے مطابق وینزویلا کی تقریباً 80 فیصد آبادی زلزلہ زدہ علاقوں میں رہتی ہے، اور ملک میں غیر رسمی رہائش کا بڑا حصہ ایسی تعمیرات پر مشتمل ہے جو شدید زلزلوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔
ہلاکتیں: سرکاری بمقابلہ اصل خطرہ
قائم مقام صدر ڈیلسی رودریگیز نے بدھ کی رات تصدیق کی کہ 164 افراد ہلاک اور 971 زخمی ہوئے ہیں، تاہم انہوں نے خود اعتراف کیا کہ یہ اعداد ابھی نامکمل ہیں اور شمالی صوبے لاگوائیرا کو — جسے انہوں نے "حقیقی المیہ اور آفت زدہ علاقہ" قرار دیا — ابھی اس تعداد میں شامل نہیں کیا گیا۔
امریکی ادارے USGS نے اپنی ویب سائٹ پر واضح طور پر لکھا ہے: "بھاری ہلاکتیں اور بڑے پیمانے پر نقصان یقینی ہے اور تباہی کا دائرہ وسیع ہے۔" ادارے کے اندازے کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار سے ایک لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔
ملکی صورتحال: بند ہوائی اڈہ، ٹھپ سروسیں
کراکاس کا مرکزی سیمون بولیور ہوائی اڈہ بند کر دیا گیا ہے۔ میٹرو، ریلوے اور تعلیمی ادارے بھی معطل ہیں۔ سپریم کورٹ نے تمام عدالتی کارروائیاں ملتوی کر دی ہیں۔ حکومتی ٹیلی کام کمپنی CANTV نے 48 گھنٹے کے لیے انٹرنیٹ اور فون سروسیں مفت کر دی ہیں تاکہ لوگ اپنے پیاروں سے رابطہ کر سکیں۔
بین الاقوامی امداد
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اعلان کیا کہ ورجینیا اور لاس اینجلس سے سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں وینزویلا روانہ کر دی گئی ہیں اور محکمہ دفاع ہوائی اڈے کے قریب اثاثے تعینات کرے گا۔ صدر ٹرمپ نے کہا: “ابتدائی رپورٹس اچھی نہیں ہیں۔ ہم اپنے نئے دوستوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔”
اقوام متحدہ نے وینزویلا کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ میڈیا پر تمام پابندیاں فوری طور پر اٹھائی جائیں کیونکہ معلومات تک رسائی اب "زندگی اور موت کا معاملہ" بن چکی ہے۔
اہم نوٹ: یہ خبر مسلسل اپڈیٹ ہو رہی ہے۔ تمام اعداد و شمار تازہ ترین سرکاری ذرائع پر مبنی ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے غیر تصدیق شدہ اعداد و شمار پر انحصار نہ کریں۔
