ڈیرہ اسماعیل خان: گومل یونیورسٹی سے ملحقہ نجی کالجوں کے تعلیمی اور انتظامی ریکارڈ میں سنگین بے ضابطگیوں اور تضادات کا انکشاف ہوا ہے۔ ہائر ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی (HERA) کی جانب سے ریکارڈ کے جائزے اور فزیکل انسپکشن کے دوران نجی ملحقہ کالجوں میں داخلوں، رجسٹریشن، انرولمنٹ، طلبہ کی حاضری اور امتحانات سے متعلق ریکارڈ میں متعدد خامیوں اور تضادات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق معاملے کی سنگینی کے پیش نظر محکمہ ہائر ایجوکیشن نے گومل یونیورسٹی اور اس سے ملحقہ نجی کالجوں کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے معاملہ چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے سامنے اٹھا دیا ہے۔
محکمہ ہائر ایجوکیشن کی جانب سے HEC سے درخواست کی گئی ہے کہ گومل یونیورسٹی کے نجی ملحقہ کالجوں کی وابستگی، علاقائی دائرۂ اختیار، الحاق اور رجسٹریشن کی مکمل جانچ کی جائے، جبکہ ان کالجوں میں زیر تعلیم طلبہ کے داخلوں، حاضری، امتحانات اور جاری کردہ ڈگریوں کے ریکارڈ کی بھی مکمل تصدیق کی جائے۔
خط میں HERA سے غیر رجسٹرڈ نجی کالجوں اور پروگراموں میں مزید داخلوں پر عبوری پابندی عائد کرنے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔ غیر رجسٹرڈ پروگراموں میں داخلوں کا عمل ان کی حیثیت کی مکمل تصدیق تک روکنے کی سفارش کی گئی ہے۔
محکمہ ہائر ایجوکیشن نے نامکمل، مشکوک یا غیر دستیاب طلبہ ریکارڈ کی بنیاد پر جاری ہونے والی ڈگریوں کی تصدیق کی بھی سفارش کی ہے۔ اسی طرح مشکوک تعلیمی ریکارڈ رکھنے والے گریجویٹس کی اہلیت جانچنے کے لیے صلاحیت یا تصدیقی ٹیسٹ لینے پر غور کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خط کے مطابق نجی کالجوں کے طلبہ، حاضری اور امتحانات کے ریکارڈ کو گومل یونیورسٹی کے دستیاب ریکارڈ سے ملایا جائے گا۔ ریکارڈ میں تضادات ثابت ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لانے کی سفارش کی گئی ہے۔
محکمہ ہائر ایجوکیشن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ طلبہ کے مستقبل اور اعلیٰ تعلیمی اسناد کی ساکھ کے تحفظ کے لیے معاملے کی شفاف اور جامع جانچ ضروری ہے۔ گومل یونیورسٹی سے ملحقہ نجی کالجوں کے الحاق، رجسٹریشن، طلبہ کے ریکارڈ اور ڈگریوں کی تصدیق کے لیے HEC سے تعاون بھی طلب کیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے معیار پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ تعلیم کی بہتری کے لیے مؤثر احتساب کا عمل جاری رہے گا۔
