خیبرپختونخوا اسمبلی نے پبلک سروس کمیشن آرڈیننس 1978 میں ترامیم منظور کرتے ہوئے گورنر کے اختیارات میں مزید کمی کر دی ہے۔ ان ترامیم کے تحت پی ایس سی چیئرمین کی تقرری اب گورنر کی صوابدید پر نہیں بلکہ وزیراعلیٰ اور صوبائی کابینہ کی منظوری سے مشروط ہو گی۔

ترمیم کا پس منظر

اس سے قبل پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین کی تقرری گورنر کے اختیار میں تھی جو بطور آئینی سربراہ یہ فیصلہ کرتے تھے۔ نئی ترامیم کے بعد یہ اختیار عملی طور پر منتخب صوبائی حکومت کے ہاتھ میں آ گیا ہے۔ صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ یہ ترامیم جمہوری اصولوں کے عین مطابق ہیں اور منتخب نمائندوں کو اہم انتظامی فیصلوں میں شامل کرنا ضروری ہے۔

سیاسی تناظر

خیبرپختونخوا میں صوبائی حکومت اور گورنر ہاؤس کے درمیان اختیارات کی کشمکش کوئی نئی بات نہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے دونوں اطراف سے متعدد انتظامی اور آئینی معاملات پر اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان ترامیم کو اسی سیاسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جہاں صوبائی حکومت اپنے انتظامی دائرے کو وسیع کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اہمیت

پبلک سروس کمیشن ایک انتہائی اہم آئینی ادارہ ہے جو صوبے میں سرکاری ملازمتوں کے لیے امیدواروں کا انتخاب کرتا ہے۔ اس کے چیئرمین کی تقرری کا اختیار اس لیے بھی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس سے ہزاروں امیدواروں کے مستقبل کا براہ راست تعلق ہوتا ہے۔

گورنر ہاؤس کا مؤقف

اس قانون سازی پر گورنر ہاؤس کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔