ڈیرہ اسماعیل خان کے زنانہ ہسپتال میں نوعمر لڑکیوں کی ذہنی صحت کی کہانی

ڈیرہ اسماعیل خان کے زنانہ ہسپتال کی ایک عام سی راہداری ایک عام سا کمرہ۔ باہر مریضوں کی آوازیں، ٹوکن نمبروں کی پکار اور ایک لمبی قطار۔ اندر ایک سولہ سترہ سالہ لڑکی کرسی کی پیٹھ سے ٹیک لگائے، ہاتھوں میں دوپٹے کا پلو مروڑتی بیٹھی ہے۔ چہرے پر نہ بخار کی سرخی، نہ کسی زخم کا نشان۔ بظاہر بالکل تندرست۔

مگر چند منٹ کی بات چیت کے بعد کمرے میں موجود ماہرِ نفسیات کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ اصل مسئلہ جسم میں نہیں کہیں بہت اندر اس خاموشی میں چھپا ہے جو یہ لڑکی مہینوں سے اوڑھے بیٹھی ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے زنانہ ہسپتال میں قائم یہ مرکز وہ ماحول فراہم کر رہا ہے جس میں ایک لڑکی بغیر جھجک کے وہ سوال پوچھ سکے جو وہ گھر میں کبھی کسی سے نہیں پوچھ سکی۔

محکمہ بہبود آبادی ڈیرہ اسماعیل خان کے زیرِ انتظام چلنے والا یہ مرکز روزانہ ایسی نوعمر لڑکیوں اور نوجوان خواتین کو دیکھتا ہے جنہیں بظاہر کوئی جسمانی بیماری نہیں ہوتی مگر ان کے اندر سوال، خوف، دباؤ اور الجھنیں اس قدر جمع ہو چکی ہوتی ہیں کہ وہ خود بھی نہیں جانتیں کہ بات کہاں سے شروع کریں۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہ منصوبہ سرکاری سطح پر ایک سال قبل باقاعدہ طور پر مکمل ہو چکا تھا، مگر محکمہ آبادی و بہبود نے اس کی افادیت کو دیکھتے ہوئے اسے اپنی مدد آپ کے تحت جاری رکھا ہوا ہے، تاکہ علاقے کی نوعمر لڑکیوں اور خواتین کو یہ سہولت میسر رہے۔

یہاں آنے والی ہر کہانی جسمانی شکایت سے شروع نہیں ہوتی۔ کوئی خاموشی سے آتی ہے، کوئی خوف کے ساتھ۔ کوئی وہ سوال لے کر آتی ہے جو وہ اپنی ماں سے پوچھنے سے گھبراتی رہی۔ اور کوئی صرف اس امید پر آتی ہے کہ شاید یہاں کوئی اسے پرکھے بغیر سمجھ لے۔

مرکز کی ماہرِ نفسیات ڈاکٹر سمرہ برسوں سے نوعمر لڑکیوں کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نوعمری زندگی کا وہ نازک موڑ ہے جہاں جسم کے ساتھ ذہن بھی تیزی سے بدلتا ہے اور یہی وہ عمر ہے جب لڑکیاں اپنے جسم شخصیت، رشتوں، مستقبل اور معاشرتی توقعات جیسے سوالات کا سامنا اکیلے کرتی ہیں۔

مسئلہ اس وقت سنگین ہو جاتا ہے جب انہیں ان سوالات کے جواب کہیں سے نہیں ملتے۔ کئی لڑکیاں ذہنی دباؤ، بے چینی، خوف، احساسِ کمتری یا گھریلو دباؤ کے ساتھ مرکز پہنچتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسی کیفیت میں مسلسل بے چینی اور خوف کے علاوہ نیند کا اڑ جانا، بھوک میں کمی یا بے قابو اضافہ، ہر وقت اداسی یا چڑچڑاپن، خود کو بے کار یا اکیلا محسوس کرنا اور بعض شدید صورتوں میں خودکشی کے خیالات تک شامل ہو سکتے ہیں۔ ایسی علامات کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ بروقت رہنمائی اور مشاورت اس کیفیت کو سنبھلنے میں بڑا کردار ادا کرتی ہے۔ بعض اوقات جس رویے کو گھر والے "ضد" یا "بدتمیزی" سمجھ رہے ہوتے ہیں، اس کے پیچھے دراصل ایک ایسا ذہنی بوجھ چھپا ہوتا ہے جسے وہ لڑکی خود بھی سمجھنے سے قاصر ہوتی ہے۔ یہیں سے مشاورت کی اصل اہمیت شروع ہوتی ہے۔

آخر ایسا ہوتا کیوں ہے؟

اس سوال کا جواب سمجھنے کے لیے نوعمری کے مرحلے کو قریب سے دیکھنا پڑتا ہے۔ یہ وہ عمر ہے جب جسم میں ہارمونی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہوتی ہیں۔ قد بڑھنے، جسمانی ساخت بدلنے اور ماہواری جیسے مراحل کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ تبدیلیاں صرف جسم تک محدود نہیں رہتیں بلکہ سیدھی دماغ پر بھی اثر ڈالتی ہیں کیونکہ جسم میں پیدا ہونے والے یہی ہارمون مزاج، جذبات اور سوچنے کے انداز کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق انسانی دماغ کا وہ حصہ جو جذبات پر قابو رکھنے اور فیصلہ سازی کا ذمہ دار ہے نوعمری میں ابھی مکمل طور پر تیار نہیں ہوتا اور تقریباً پچیس سال کی عمر تک بتدریج نشوونما پاتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس عمر میں جذبات زیادہ شدید محسوس ہوتے ہیں، چھوٹی بات بھی بڑا مسئلہ لگنے لگتی ہے اور غصہ، اداسی یا گھبراہٹ جیسی کیفیات پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ نوعمری وہ دور بھی ہے جب لڑکی کی اپنی شناخت بننا شروع ہوتی ہے، وہ خود کو، اپنے جسم کو اور اپنے ارد گرد کی دنیا کو نئے سرے سے سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ جسمانی تبدیلیاں بعض اوقات شرمندگی یا خوف کا باعث بھی بنتی ہیں، خاص طور پر جب گھر میں ان پر کھل کر بات نہ ہو۔ ایسے میں جسمانی تبدیلی، ہارمونی اتار چڑھاؤ اور ذہنی الجھن، یہ تینوں مل کر وہی کیفیت پیدا کرتے ہیں جسے اکثر خاندان "بدتمیزی" یا "ضد" سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ ایک قدرتی مگر نازک مرحلہ ہوتا ہے جسے سمجھنے اور سنبھالنے کے لیے رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس نازک عمر میں دباؤ صرف جسمانی اور ہارمونی تبدیلیوں تک محدود نہیں رہتا۔ تعلیم، امتحانات، مستقبل کی فکر اور خاندان کی بڑھتی توقعات بھی نوعمر لڑکیوں کے کندھوں پر ایک اضافی بوجھ ڈال دیتی ہے۔ مسلسل موازنہ اور تنقید کا سامنا رہے تو رفتہ رفتہ احساسِ کمتری، منفی خیالات اور خود اعتمادی میں کمی جنم لینے لگتی ہے۔ آج کل اس میں ایک نیا عنصر بھی شامل ہو گیا ہے، سوشل میڈیا۔ بہت سی لڑکیاں دوسروں کی زندگی، شکل و صورت یا کامیابیوں کو دیکھ کر خود کو ان سے کم تر سمجھنے لگتی ہیں، اور ضرورت سے زیادہ یا بے قابو استعمال ان کی روزمرہ زندگی اور ذہنی سکون دونوں پر منفی اثر ڈالتا ہے۔

ماہرین کے نزدیک ایسی صورتحال میں تربیت یافتہ ماہرِ نفسیات کی مشاورت نہایت مددگار ثابت ہوتی ہے۔ مشاورت کے ذریعے لڑکی کو اپنے جذبات سمجھنے، منفی سوچ کو پہچاننے، تعلیمی دباؤ اور بے چینی سے نمٹنے، غصے کو بہتر انداز میں سنبھالنے اور اعتماد بحال کرنے میں مدد دی جاتی ہے ساتھ ہی زندگی کے مشکل لمحات سے نمٹنے کے صحت مند طریقے بھی سکھائے جاتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت بھی نوجوانوں کے لیے بروقت نفسیاتی و سماجی مدد کی اہمیت پر مسلسل زور دیتا رہا ہے۔

اعداد و شمار کیا کہتے ہیں

 عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں دس سے انیس سال کی عمر کا ہر ساتواں نوجوان کسی نہ کسی ذہنی مسئلے کا شکار ہوتا ہے، اور یہ کیفیت اکثر بغیر کسی تشخیص اور علاج کے ہی رہ جاتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال کی مشترکہ رپورٹ بتاتی ہے کہ تقریباً نصف ذہنی مسائل اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے ہی جنم لے چکے ہوتے ہیں۔

پاکستان میں صورتحال مزید سنگین ہے۔ ملک میں قائم ذہنی صحت کی سہولیات میں سے محض ایک فیصد خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کے لیے مختص ہیں۔ اس ضمن میں سب سے تفصیلی مقامی تحقیق فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی، راولپنڈی کی محقق ڈاکٹر آمنہ خالد اور اسلام آباد کے قائدِ اعظم انٹرنیشنل ہسپتال کی ڈاکٹر فرح قادر نے مل کر کی، جو 2019 میں "جرنل آف مینٹل ہیلتھ" میں شائع ہوئی۔ اس تحقیق میں راولپنڈی کے سرکاری اسکولوں سے گیارہ سو چوبیس طلبہ و طالبات (عمر گیارہ سے اٹھارہ سال) کا جائزہ لیا گیا، جس میں سترہ اعشاریہ دو فیصد میں ڈپریشن اور اکیس اعشاریہ چار فیصد میں بے چینی کی علامات پائی گئیں، اور یہ بھی سامنے آیا کہ لڑکیوں میں یہ بے چینی لڑکوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی۔ اسی تحقیق کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ڈپریشن کی علامات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

اسی طرح راولپنڈی کے مضافاتی علاقے کلر سیداں کے اکتالیس سرکاری اسکولوں میں تیرہ سے پندرہ سال کے نوجوانوں پر ہونے والی ایک اور تحقیق میں، جو ماہرینِ نفسیات سید عثمان حمدانی اور ان کی ٹیم نے کی اور 2021 میں "بی جے سائیک اوپن" نامی طبی جریدے میں شائع ہوئی، معلوم ہوا کہ ہر چار میں سے ایک نوجوان کسی نہ کسی نفسیاتی و جذباتی مسئلے کا شکار پایا گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوان آبادی کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ تازہ ترین مردم شماری کے مطابق ملک کی تقریباً ایک تہائی آبادی پندرہ سے انتیس سال کی عمر کے درمیان ہے۔ یعنی جس عمر کے گروہ کو سب سے زیادہ نفسیاتی اور تولیدی رہنمائی درکار ہے، وہی گروہ ملک کی آبادی کا سب سے بڑا حصہ بھی ہے۔ سہولیات اور ضرورت کے درمیان یہی خلا ہے جسے ڈیرہ اسماعیل خان جیسا مرکز پر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

نوعمری کے مسائل پر بات کرنا ہمارے معاشرے میں آج بھی آسان نہیں خاص طور پر جب معاملہ جنسی اور تولیدی صحت کا ہو۔ بہت سی لڑکیاں سوال پوچھنے سے ڈرتی ہیں کہ کہیں انہیں غلط نہ سمجھا جائے کہیں شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

نتیجہ؟ سوال دل میں دبا رہ جاتا ہے، جواب نہیں ملتا۔ اور جب گھر، اسکول یا معاشرہ خاموش رہے تو لڑکیاں اکثر غیر مصدقہ معلومات یا سماجی رابطے کی ویب سائٹوں کا سہارا لیتی ہیں، جہاں غلط معلومات درست معلومات سے کہیں زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں۔ عالمی سطح پر نوعمر صحت کے ماہرین بھی اسی بات پر زور دیتے ہیں کہ نوعمر لڑکیوں کو ایسی سہولیات تک رسائی ملنی چاہیے جہاں معلومات، رازداری اور غیر جانبدارانہ رہنمائی ایک ساتھ میسر ہوں۔ ڈیرہ اسماعیل خان کا یہ مرکز بالکل اسی اصول پر قائم ہے۔

زنانہ ہسپتال میں قائم یہ مرکز صرف علاج کی جگہ نہیں، ایک ایسا محفوظ گوشہ ہے جہاں لڑکیاں اپنی بات کھل کر کہہ سکیں۔ جہاں کسی کو یہ خوف نہ ہو کہ اس کے سوال پر اسے ڈانٹا جائے گا۔ جہاں کسی کی پریشانی کو "فضول سوچیں" کہہ کر رد نہ کیا جائے۔ اور جہاں کسی لڑکی کو یہ نہ سننا پڑے کہ “تم ابھی بچی ہو تمہیں ان باتوں کی کیا فکر؟”

کیونکہ نوعمری میں جنم لینے والے سوالات صرف عمر گزرنے سے ختم نہیں ہوتے ان کا جواب دینا پڑتا ہے۔

مرکز پر تعینات ماہرِ نفسیات کے پاس آنے والی ہر لڑکی یا خاتون کا سب سے پہلے ایک تفصیلی نفسیاتی جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ مسئلے کی نوعیت اور شدت کو سمجھا جا سکے۔ اس کے بعد ضرورت کے مطابق باقاعدہ مشاورت اور جہاں درکار ہو نفسیاتی علاج کا سلسلہ شروع کیا جاتا ہے۔ اس دوران اعتماد کی بحالی، شخصیت کی نشوونما، ذہنی دباؤ اور بے چینی کے انتظام، غصے پر قابو اور منفی سوچ کو بدلنے پر کام کیا جاتا ہے تاکہ لڑکی صرف اس ایک نشست سے نہیں بلکہ آنے والے وقت میں بھی خود کو سنبھالنا سیکھ لے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی لڑکی یا خاتون کو مسلسل پریشانی، بے چینی، اداسی، غصہ، خود اعتمادی میں کمی یا کسی بھی طرح کی جذباتی مشکل کا سامنا ہو تو اسے نظر انداز کرنے کے بجائے کسی تربیت یافتہ ماہرِ نفسیات سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر انفرادی مشاورت، وقتاً فوقتاً فالو اپ اور مناسب ریفرل کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے، تاکہ کوئی بھی لڑکی یہ محسوس نہ کرے کہ اسے یہ لڑائی اکیلے لڑنی ہے۔

اس کہانی کا ایک اہم پہلو مائیں اور والدین بھی ہیں۔ اکثر گھر والے اپنی بیٹیوں کو ہر ممکن سہولت دینا چاہتے ہیں مگر ذہنی یا تولیدی صحت جیسے موضوعات پر بات کرتے ہوئے خود بھی جھجھک محسوس کرتے ہیں، شاید اس لیے کہ انہیں کبھی کسی نے یہ نہیں بتایا کہ جسم کی طرح بیٹی کا ذہن بھی توجہ مانگتا ہے۔

شاید اسی لیے ضرورت صرف لڑکیوں کو مشاورت دینے کی نہیں، بلکہ والدین کو یہ سمجھانے کی بھی ہے کہ ہر خاموشی رضا مندی نہیں ہوتی، ہر غصہ بدتمیزی نہیں ہوتا اور ہر سوال بے راہ روی کی علامت نہیں ہوتا۔

ڈیرہ اسماعیل خان کا یہ مرکز ایک اہم سوال سامنے لاتا ہے کیا ہم اپنی بیٹیوں کو صرف جسمانی طور پر تندرست دیکھنا چاہتے ہیں یا ذہنی طور پر بھی محفوظ؟