حمیرا کلینک میں مردہ نومولود کی پیدائش، جسم اور گلے پر زخموں کے نشانات، تحقیقات کا مطالبہ

ڈیرہ اسماعیل خان: حمیرا کلینک میں ایک خاتون کے ہاں مردہ بچی کی پیدائش کے بعد بچی کے گلے اور جسم پر زخموں کے نشانات سامنے آنے سے تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اہلِ خانہ نے واقعے کی مکمل تحقیقات اور مبینہ غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اہلِ خانہ کے مطابق خاتون کی زچگی حمیرا کلینک میں موجود LHV زیتون بی بی کی نگرانی میں ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ حمل کے دوران بچے کی حالت کے حوالے سے خدشات موجود تھے، تاہم انہیں مبینہ طور پر مسلسل یہ تسلی دی جاتی رہی کہ بچہ نارمل ہوگا اور اسے کسی بڑے ہسپتال منتقل کرنے کی ضرورت نہیں۔

اہلِ خانہ کے مطابق پیدائش کے وقت بچی پہلے ہی مردہ تھی، جبکہ اس کے گلے اور جسم پر واضح زخموں کے نشانات بھی موجود تھے۔ ان نشانات کی اصل وجہ کیا تھی، آیا یہ زچگی کے دوران پیش آنے والی کسی پیچیدگی کا نتیجہ تھے یا کسی اور وجہ سے پیدا ہوئے، اس کا تعین صرف مستند طبی معائنے اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

واقعے نے ایک بار پھر گھروں یا غیرمناسب طبی مراکز میں زچگی کے دوران ماں اور بچے کی حفاظت سے متعلق سوالات اٹھا دیے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حمل اور زچگی کے دوران کسی بھی ممکنہ پیچیدگی کو معمولی سمجھنے کے بجائے خاتون کو بروقت مستند طبی مرکز منتقل کیا جانا چاہیے۔

متاثرہ خاندان اور شہری حلقوں نے محکمہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمیرا کلینک میں پیش آنے والے اس واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، بچی کے جسم پر موجود زخموں کی طبی وجوہات کا تعین کیا جائے، زچگی سے متعلق تمام ریکارڈ کی جانچ کی جائے اور اگر کسی فرد کی غفلت یا پیشہ ورانہ کوتاہی ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان شہر میں سرکاری ہسپتالوں کی موجودگی کے باوجود اگر خاندان پیچیدہ کیسز کے لیے غیرمستند یا غیرمحفوظ طریقۂ زچگی کا انتخاب کریں تو ایسے واقعات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے حاملہ خواتین اور ان کے اہلِ خانہ کو چاہیے کہ پیچیدگی کی صورت میں فوری طور پر مستند اور تربیت یافتہ طبی عملے سے رجوع کریں۔