ضلع ٹانک میں بجلی کی صورتحال انتہائی ابتر ہو گئی ہے۔ گرمی کے عروج کے موسم میں شہریوں کو 22 گھنٹے تک بجلی سے محروم رکھا جا رہا ہے جس سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔
شدید گرمی میں اتنے طویل عرصے تک بجلی کی عدم فراہمی نے بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ گھروں میں پنکھے اور کولر بند پڑے ہیں، رات کو سونا محال ہو گیا ہے اور شہری سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہیں۔
کاروبار تباہی کے دہانے پر
طویل لوڈشیڈنگ نے چھوٹے کاروباروں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ دکاندار، درزی، حجام اور دیگر کاریگر روزانہ کی بنیاد پر نقصان اٹھا رہے ہیں۔ آٹے اور برف کی قلت پیدا ہونے لگی ہے اور ریفریجریٹرز بند ہونے سے کھانے پینے کا سامان خراب ہو رہا ہے۔
شہریوں کی آواز
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ صرف 2 گھنٹے بجلی آتی ہے اور باقی پورا دن اور رات اندھیرے میں گزرتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہم بجلی کے بل ادا کرتے ہیں پھر بھی ہمارا یہ حال ہے، آخر ہمارا قصور کیا ہے۔
مطالبات
شہریوں نے پیسکو حکام اور صوبائی حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوڈشیڈنگ کا یہ شیڈول انسانی بنیادوں پر ناقابل قبول ہے اور فوری طور پر بجلی کی فراہمی کو معمول پر لایا جائے۔
پیسکو کا مؤقف
پیسکو یا متعلقہ حکام کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔