کمرے کے ایک کونے میں گود میں نمونیا سے نڈھال بچہ لیے جس کی تیز چلتی سانسیں بے بسی کا نوحہ پڑھ رہی ہیں۔ سامنے دیوار سے ٹیک لگائے شمائلہ بیٹھی ہیں چہرے پر زردی، آنکھوں میں دھندلاہٹ اور جسم میں خون کی کمی کی حالات میں وہ ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک فیملی پلاننگ سینٹر میں اپنے بیمار بچے کی دوا لینے آئی ہیں، لیکن خود ان کی اپنی حالت یہ ہے کہ سر چکرا رہا ہے اور وہ اس وقت نو ماہ کی حاملہ بھی ہیں۔ یہ ان کے آٹھویں بچے کی پیدائش کا کڑا وقت ہے۔
​پاکستان کے سب سے بڑے نیشنل نیوٹریشن سروے 2018/19 کے مطابق 15 سے 49 سال کی تقریباً 42 فیصد شادی شدہ خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں، اور سال 2024/25 پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے (PDHS) کے تازہ ترین اعداد و شمار صاف بتاتے ہیں کہ زمینی حالات میں کوئی خاص فرق نہیں آیا اور آج بھی 25 فیصد سے زیادہ خواتین ایسی ہیں جو چاہنے کے باوجود خاندانی منصوبہ بندی کی سہولت سے محروم ہیں۔
جب شمائلہ سے سوال کیا کہ اتنی تکلیف کے بعد بھی وہ بچوں میں وقفہ کیوں نہیں کر پاتیں؟ تو یہ سنتے ہی ان کی آنکھیں بھر آئیں اور انہوں نے بہت دھیمی اور کانپتی ہوئی آواز میں بتایا "میرے ہاتھ میں کیا ہے؟ ہمارے گھر میں تو وقفے کا نام لینا بھی ایک عیب ہے۔ میرے سسر اس بات کے سخت خلاف ہیں اور ہم بہوؤں میں سے کسی کو یہ اجازت نہیں کہ اپنی مرضی چلا سکے۔ بس جو قسمت میں لکھا ہے وہی جھیل رہی ہوں، ڈر تو بہت لگتا ہے مگر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں سوجھتا۔"
​اسی فیملی پلاننگ سینٹر میں کام کرنے والی ایک خاتون نے اپنی پہچان چھپانے کا کہہ کر بتایا کہ یہاں صرف شمائلہ کا یہ حال نہیں ہے بلکہ روز کا یہی رونا ہے اور روز ایسے ہی دردناک حالات دیکھنے کو ملتے ہیں۔
​ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ان علاقوں کے ہر دوسرے گھر کا یہی قصہ ہے۔ یہاں کی عورتیں لگاتار حمل، گرتی ہوئی جان اور گھر والوں کے دباؤ کے ایک ایسے چکر میں جکڑی ہوئی ہیں جہاں ان کا اپنے جسم اور اپنی صحت پر کوئی زور نہیں چلتا اور نہ وہ خود کوئی فیصلہ کر سکتی ہیں۔
​ڈیرہ اسماعیل خان کے دو بڑے ہسپتالوں، ڈسٹرکٹ زنانہ ہسپتال (ZHQ) اور مفتی محمود, سمیت اردگرد کے دیگر طبی مراکز کے بچوں اور زچگی کے وارڈز روزانہ ایسے ہی کیسز سے بھرے نظر آتے ہیں۔ یہاں کا احوال دیکھیں تو ایک طرف مائیں شدید کمزوری کی وجہ سے بستر سے لگ چکی ہیں تو دوسری طرف ان کے جگر کے ٹکڑے غذائی قلت اور نمونیا جیسی بیماریوں سے لڑتے لڑتے ماؤں کی گود میں ہی دم توڑ رہے ہوتے ہیں۔
​اگر بین الاقوامی ادارے کی سال 2025-2026 کی تازہ رپورٹ دیکھیں، جس کا عنوان "Pakistan: Acute Malnutrition Situation October 2025 - March 2026 and Projection for April - September 2026" ہے، تو معلوم ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا اس وقت بچوں کی غذائی قلت کا سب سے بڑا گڑھ بن چکا ہے۔ رپورٹ کے زمینی اعداد و شمار صاف بتا رہے ہیں کہ صوبے کے 14 اضلاع میں 11 لاکھ سے زیادہ معصوم بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور یہ تشویشناک تعداد پورے ملک کے کل کیسز کا 41 فیصد بنتی ہے۔
​ڈاکٹرز اور طبی ماہرین زمینی سطح پر پیدا ہونے والی اس صورتحال کو ایک بڑا انسانی المیہ قرار دے رہے ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان گومل میڈیکل کالج کی ڈین اور جانی مانی گائناکالوجسٹ ڈاکٹر نسیم صباء محسود کا اس بارے میں کہنا تھا کہ دو بچوں کی پیدائش میں مناسب وقت نہ دینا صرف ماں کو ہڈیوں کا ڈھانچہ ہی نہیں بناتا، بلکہ زچگی کے وقت اسے سیدھا موت کے منہ میں دھکیل دیتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جب ماں خود اندر سے اتنی کمزور ہوگی تو پیدا ہونے والا بچہ بھی دنیا میں آتے ہی غذائی قلت اور کمزور امیونٹی کا شکار ہو جاتا ہے، جس کے بعد نمونیا اور دیگر وبائی بیماریاں اس پر آسانی سے حملہ آور ہو جاتی ہیں۔
​دوسری طرف پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ ڈیرہ اسماعیل خان کے سربراہ نظام الدین  محسود جو خاندانی منصوبہ بندی کے مراکز بھی دیکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہماری فیلڈ ٹیمیں گاؤں گاؤں جا کر یہی سمجھاتی ہیں کہ فیملی پلاننگ کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بچوں کی پیدائش روک دی جائے بلکہ اصل مقصد ماں اور بچے کی جان بچانا ہے۔ ایک بچے کے بعد ماں کے جسم کو دوبارہ سنبھلنے اور خون کی کمی پوری کرنے کے لیے کچھ وقت چاہیے ہوتا ہے لیکن گھر والوں کے دباؤ کی وجہ سے ان عورتوں کو یہ مہلت ہی نہیں ملتی۔
​صحت پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی فاروق محسود کہتے ہیں کہ جو کچھ کتابوں میں لکھا ہے زمین پر حالات اس سے بالکل الٹے ہیں۔ ہمارے اس پسماندہ معاشرے میں صحت سے جڑے فیصلے ڈاکٹر کے مشورے پر نہیں بلکہ گھر کے بڑے بوڑھے اور پرانے رواج دیکھ کر کیے جاتے ہیں۔ یہاں بچوں میں وقفے پر بات کرنا آج بھی ایک عیب یا برائی سمجھا جاتا ہے اور اس ضد کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ معصوم ماؤں کی جان چلی جاتی ہے۔
​شمائلہ آج بھی اپنے اسی بیمار بچے کو سینے سے لگائے آنے والے آٹھویں بچے کی فکر میں اندر ہی اندر گھل رہی ہیں۔ ان کا یہ دکھ صرف ایک عورت کی کہانی نہیں بلکہ ہمارے پورے ڈھانچے پر ایک بہت بڑا سوال ہے کہ آخر کب تک ہمارے ہاں انسانی زندگی کو ان فرسودہ رواجوں کی نذر کیا جاتا رہے گا؟ اور ان ماؤں کو اپنی مرضی سے جینے کا حق کب ملے گا؟